23 جنوری 2014 - 20:30
اوبامہ کس تنہائی کی بات کر رہے ہیں؟ روحانی ڈیووس میں ایک ستارہ تھے، یہ ایک مکمل کامیابی ہے+ تصاویر

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ڈیوس اجلاس میں ایران کے صدر جمہوریہ حسن روحانی کی حاضری امریکی حکومت کے لیے سب سے بڑی سیاسی شکست ہے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی کامیابیاں امریکی اخباروں کی سرخیاں بن رہی ہیں۔اسی اثنا واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک جانب سے ایران کی فتح کا اعتراف کیا ہے اور دوسری جانب ڈیووس میں صدر روحانی کی درخشاں موجودگی پر غم و غصہ کا اظہار۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ڈیوس اجلاس میں ایران کے صدر جمہوریہ حسن روحانی کی حاضری امریکی حکومت کے لیے سب سے بڑی سیاسی شکست ہے۔ایک وقت وہ تھا جب باراک اوبامہ یہ رجز پڑھ رہے تھے کہ دنیا نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور وہ دنیا میں اکیلا ملک ہو گیا ہے لیکن آج روحانی ڈیووس کانفرنس میں مزے سے مسکرا رہے ہیں اور صوفے پر بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ دنیا کے حکمران ان سے ملاقات کے لیے وقت لے رہے ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندے ان سے تجارتی گٹھ جوڑ کر رہے ہیں۔ جنیوا معاہدے نے ایرانی اقتصاد میں نئی جان ڈال دی ہے پابندیاں ہٹ رہی ہیں اور غیر ملکی تاجر پورے شوق کے ساتھ تہران کی طرف رخ کر رہے ہیں۔کارک ڈوبیٹر اور امانوئل اٹولنگی کا کہنا ہے کہ پابندیاں ہٹنے کے اثرات اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنے اوبامہ سوچ رہے تھے۔ یہ کوئی تعجب والی بات نہیں ہے کہ مسٹر اوبامہ نے مختلف ممالک کی راجدھانیوں میں اپنے نمائندے بھیج کر تاجروں سے یہ کہلوایا ہے کہ وہ فی الحال تہران میں سرمایہ کاری کے لیے بھیڑ نہ لگا دیں۔بہر صورت جنیوا معاہدہ کے بعد امریکی حکام دنیا میں ایران کی سیاسی کامیابی اور امریکہ کی شکست سے سخت متاثر ہیں جس کا اعتراف دنیا کے تمام تجزیہ نگار کرنے پر مجبور ہیں۔دنیا کے تجزیہ نگاروں نے اس بات کا بھی اعتراف کر لیا ہے کہ آج ایران ڈیووس کانفرنس میں ایک درخشاں اسٹار کی حیثیت سے موجود رہا ہے اور ہماری نظر میں ایران بالکل تنہا نہیں ہے بلکہ یہ ایران کے لیے ایک مکمل اور ہمہ جہت کامیابی ہے۔

................پایان ۲۴۲